ڈر کی سیاست اور حب الوطنی کا کھیل: نورجہاں مومن

Noorjahanmominگزشتہ دنوں میں جواہرلال نہرو یونیورسٹی کا معاملہ خاصہ طول پکڑ چکا ہے. مرکزی حکومت نے اس بینلاقوامی شہرت یافتہ تعلیمی ادارے کو بدنام کرنے کے لئے جو بدبختانہ حکمت عملی اختیار کی تھی ، اس کی پرزور  مخالفت ہوئی جس کی  گونج  ملک بھر کے تعلیمی اداروں سے لے کر دہلی کی سڑکوںتک  اور پارلیمنٹ کے اجلاس تک سنائی دی. اسی دوران کچھ ایسی باتیں ایسی بھی کہی گین  جن کے بارے میں فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ یہ  احمقانہ زیادہ ہیں یا  مضحکہ خیز زیادہ.   بدھ کو سبکدوش فوجیوں کے ایک دفد  نے جے این یو کے عہدیداروں سے ملاقات کی اورانھیں مشورہ دیا کی یونیورسٹی میں ملک پرستی کے جذبات کو فروغ دینے  کے لئے کیمپس میں فوری طور پر ایک رجنگی توپ کو لا کر رکھ دی جائے. اس سے بھی زیادہ شرمناک بات  یہ ہے کہ یونیورسٹی کے رجسٹرار صاحب نے اس مطالبے کو درست مانتے ہوئے اس طرح کے اقدامات کو موزوں قرار دیا.  اس سلسلے میں یہ بات  بھی غور طلب ہے کہ اس فوجی دفد کی نمایندگی ایک سبکدوش میجر جنرل جی ڈی بخشی صاحب کر رہے تھے جو اکثر ٹیلی ویژن پر چیختے چللاتے نظرآتے ہیں. ان کے نزدیک  قوم پرستی یا  ملک پرستی، ایک پر امن دنیا سے بہت بڑی چیز ہے اور جنگ کرنا ایک ضرورت ہے. جب جنرل صاحب ٹیلی ویژن سٹوڈیو میں جنگ کی پیروی کرتے ہوئے آپے سے باہر ہو رہے ہوتے ہے’ نا جانے کتنے سپاہیوں کے اہل خانہ جنگ نا ہونے کی دعا کرتے ہیں. جنگ کی قیمت سرحدوں پر تعینات معمولی سپاہی اور انکے اہل خانہ  سے زیادہ کوئی نہیں چکاتا  مگر جنرل صاحب اور لک بھر میں اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے لوگوں کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے. انکے فلسفے کے حساب سے تو جب جنگ سے کام ہو !سکتا ہے تو پر امن مذاکرات کی کیا ضرورت

  ان باتوں کو اگر دھیان میں رکھ کر جنرل صاحب کے مشورے پر غور کیا جائے تو ملک پرستی توپ کے دہانے  سے ہی نکلتی نظر آتی ہے. مگر کیا کریں، جے این یو کے لوگ ٹھہرے امن کے شیدائی،  توپ کی دہانے  سے نکلی ہوئی ملک پرستی انکی فہم  سے  بالاتر ہے.  اور کیا ایک ایسا تعلیمی ادارہ جہاں کے تقریبن ١٠ فیصد طلباءغیر ملکوں سے پڑھائی کرنے آتے ہیں، وہاں اس طرح کی قوم پرستی ایک صحیح قدم ہوگا؟ طاقت کے  بل بوتے پر ملک تعمیر نہیں ہوتے یہ بات انسانی تاریخ سے واقف کوئی بھی شخص نظرانداز نہیں کرسکتا. حب الوطنی  اور وطن دوستی ایک دن میں پیدا ہونے والا جذبہ نہیں ہے. اسے تو سینچا جاتا ہے خلوص، ایثار اور ایک دوسرے کے تعا ون سے.  ڈر اور نفرت وہ دیمک ہیں  جو روز بروز اس عظیم جذبے کو اندر سے کھوکھلا کرتی ہے . تاریخ گواہ ہے کہ  ظلم و جبر کے بل پر اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کی کوشش حکمرانوں نے بہت کی ظلم ، مگرعوام  کے دلوں پر حکومت  وہی کر سکے جنہوں نےموحبّت و عزت اور عدل و انصاف کی بات کی. ہمارے ہی ملک میں آج کئی صوبے ایسے ہے جہاں خانہ جنگی جاری ہے. فوج کی مسلسل موجودگی وہاں کے باشندوں کے لئے مستقل عذاب ہے. جب فوج کی بات نکلی ہی ہے تو یہ کہنا بھی ضروری ہو جاتا ہے کی ہندوستانی افواج کا ریکارڈ انسانی حقوق کی خلاف ورزی  کے معاملے میں بہت ہی افسوسناک رہا ہے. یوں تو کشمیر اور شمال مشرق کی ریاستیں ہمارے اس عظیم ملک کا حصّہ ہیں مگر وہاں کے لوگ روزانہ خوف کے سایے میں جیتے ہیں. آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ (AFSPA) افواج کو خصوصی  اختیار دیتا ہے . اس قانون کی آڑ میں جس طرح ہندوستانی فوج ملک کے ان  حصّوں میں رہنے بسنے والے ہندوستانیوں سے ‘نمٹ’ رہی ہے یہ کوئی ڈھکی  چھپی ہوئی بات نہیں ہے

 یہ بات بھی غور طلب ہے کہ جے این یو میں بہت سے طلباء ملک کے ان دور دراز حصّوں سے تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں  جہاں ہندوستانی افواج اور علحدگی پسند طاقتوں کی محاظ آرائی میں نہتے معصوم شہریوں کو ہی نقصان اٹھانا پڑتا ہے. وہ بچے جن کے دل و د ماغ پہلے ہی اپنے علاقے  میں جاری خانہ جنگی سے متاثر ہیں ، کیا اپنی طرف گھورتی ہوئی ایک توپ کو دیکھ  درس تدریس میں شامل ہو سکین گے؟ کچھ لوگ ملک میں حب الوطنی کے فروغ  کے نام پر یہ کیسا سماج تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جہاں سوچ پر بھی پہرے بٹھانا مقصود ہو ؟

اس سلسلے میں ایک اور اہم بات یہ ہےکہ  جب ساری دنیا جنگ زدہ علاقوں سے فوجی دستوں کی واپسی پر زور دے رہی ہے، ہمارے ملک کے کچھ سمجھدار افراد پر امن شہری علاقوں کو بھی فوجی بیرک میں تبدیل کر دینا چاہتے ہیں. جس حب الوطنی کی بات میجر صاحب جیسے لوگ کر رہے ہیں اس کی بنیاد ہے ڈر. ڈر جو لوگوں کو اپنی سرکار سے سوال پوچھنے سے روکے. ڈر جو لوگوں کو سرکار سے اپنے حقوق کے لئے  لڑنے سے روکے. ڈر جو ہم نوجوانوں کو ظلم کے مخالف کھڑا ہونے سے روکے. تعلیمی اداروں میں جنگی توپ نصب  کرنا بھی ایک کوشش ہے دلوں میں ڈرپیدا کرنے اور قائم  رکھنے کی. یہ کوششیں صرف تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں ہیں. سڑکوں پر’ مظاہروں میں جس طرح کے نعروں کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ خون بہانے اور جان سے  مارنے کی کھلے عام دھمکیوں سے کم نہیں ہے. اگر کوئی بھی شخص سرکار کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمّت کرتا ہے، تو اسے اور اس کے اہل خانہ کو دھمکیاں موصول ہونے لگتی ہیں. اگر یہ ہمّت کسی خاتون نے کی تو جان سے مارنے کے علاوہ اس فہرست میں عصمتدری  اور تیزاب سے حملے کی دھمکیاں بھی شامل ہو جاتی ہیں. حا لیہ دنوں میں جے این یو کے طالبعلم عمر خالد جس پر ملک مخالف ہونےکا الزام لگایا گیا ہے، اس کی نابالغ بہن کے لئے اس طرح کی دھمکیاں دینےوالے لوگ بھی ملک پرستی کا چوغہ اوڑھے ہوئے ہیں. یہ بات یہاں کہنا اس لئے بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ خاموشی سے اس ظلم کو سہتے رہنے پر ان شر پسندوں کی ہمّت اور بڑھتی جا رہی ہے. اس طرز پر گالی گلوچ ان کی سوچ کی بدحالی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے. اپنی بات کے حق میں ٹھوس دلیلوں کا فقدان بھی اسی برہمی کی ایک وجہ ہے جو اپنے مقابل میں کھڑے لوگوں کو ضر پہچانے کی طرف راغب کرتی ہے.

 حب الوطنی کا جذبہ ایسے سماج پر غرور سے جنم لیتا ہے جس میں عدل اور مساوات کا نظام ہو. ایسا ملک جہاں کوئی بچہ بھوک اور بیماری سے نہیں مارتا ہو، جہاں کسی عورت کی   بے حرمتی نہ ہوتی ہو. جہاں محنتکش کا استحصال نہ ہوتا ہو. جہاں فرقاواریت کسی  کو دھمکا ے نہ ہی کسی کی جان  لے. جہاں کے حکمران نفرت کی سیاست نہ کرتے ہوں . ایسے ملک میں حب الوطنی لوگوں کے دلوں میں خودبخود پیدا ہوتی ہے اور جب تک ایک سماج اور ملک اپنے آپکو اس معیار پر لا کر اتنا قابل  قدر نہیں بنا لیتا ہے، وہاں لوگوں کے دلوں میں ڈر موجود رکھنا ہی اہل حکم کو اپنے لئے بہتر  محسوس ہوتا ہے.

 ہندی کے انقلابی  شا عر اور جے این یو کے سابق طالب علم گورکھ پانڈے نے اس بات کو مددنظر رکھ کرہی کہا ہوگا:

وہ ڈرتے ہیں،’

کس چیز سے ڈرتے ہیں وہ،

تمام دھن دولت

گولہ بارود کے باوجود؟

وہ ڈرتے ہیں

کہ ایک دن

نہتھےاور غریب لوگ

انسے ڈرنا بند کر دینگے

Advertisements

एक उत्तर दें

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / बदले )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / बदले )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / बदले )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / बदले )

Connecting to %s