جے ا ین یو پر حملہ: کس سے ڈرتے ہے وہ؟: نورجہاں مومن

Noorjahanmominپچھلے کچھ دنوں سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی ایک تنازعے کے بیچ میں پھنسی ہوئی ہے. مرکزی سرکار کے ایما میں دہلی پولیس نے یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ یونین کے صدر کنہیا کمار کو گرفتار کر لیا ہے.اس کے ساتھ ہی دیگر سٹوڈنٹ لیڈران کی بھی ملک مخالف ہونے اور مجرمانہ سازش کرنے کے الزام کے تحت گرفتاریاں جاری ہیں. نہ صرف یہ، بلکی نیوز چینل اور سوشل میڈیا پر چلّاچلّا کر جے ا ین یو کو ایک ملک دشمن تعلیمی ادارہ اور وہاں کے موجودہ اور ماضی کے طلبہ اور اساتذہ کو بھی ملک کا غدّار بتانےکی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں. ایسے حالت میں یہ بہت ضروری ہو جاتا ہے کی ایک بار اس پر بھی بات ہو جائے کہ جے ا ین یو کیا ہے، اس سے جڑے ہوئے ہر شخص جس پر ملک مخالف ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے، ان کی کیا سوچ ہے جو مرکزی بی جے پی کی سرکار کو اس حد تک ڈرا رہی ہے کی اب انھے روکنے کے لئے سرکار تشدّد اور ظلم کرنے سے بھی نہیں چوک رہی ہے؟

ملک کی راجدھانی دہلی میں بسی جواہرلال نہرو یونیورسٹی نا صرف اینٹ اور پتھر کی قایم ایک عمارت ہے جو طلبہ کو کتابوں میں موجود علم سے واقف کرواتی ہے، بللکہ یہ ایک ایسی یونیورسٹی ہے جو یہاں پڑھ رہے ہر طالبعلم کو اپنے منتخب موضوع میں ماہر بنانے کے ساتھ ساتھ اسے ایک اچّھا انسان بننے کی تربیت بھی دیتی ہے. یہاں طلباء اور اساتذہ کے بیچ ایک اپنایت کا رشتہ ہے. یہ وہی اساتذہ اور سکالرز ہے جن کی کتابیں اور مضامین ملک اور دنیابھر میں پڑھے جاتے ہے. ١٥ فروری کو سنگھی گنڈوں نے ان اساتذہ کو بھی نہیں بخشا. دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے اندر، پولیس کی نگرانی میں ان پر حملہ کیا گیا. کچھ نیوز چننلوں نے اس مارپیٹ کو تب دکھایا جب انکے جرنلسٹو کی بھی پٹائی کر دی گیئ. ان اساتزہ کا قصور محض اتنا تھا کہ وہ اس ملک کی عدلیہ پر بھروسہ رکھ کر کورٹ گئے تھے اپنے ایک طالب-علم کنہیاکمار کو حوصلہ دینے. سوال یہ اٹھتا ہے کی جے ا ین یو میں ایسا کیا سوچا یا بولا جا رہا ہے جو اس سرکار کو اس طرح دہلاے دے رہا ہے؟

اس یونیورسٹی میں آپکو ملک کے تمام حصّوں اور سماج کے سبھی طبقوں سے وابستہ لوگ مل جاینگے. یہاں میڈیم اف انسٹرکشن بھلے ہی انگریزی ہو، مگر ہر زبان بڑے ہی چاؤ سے بولی جاتی ہے. جس یونیورسٹی پر آج ملک مخالف ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے، وہ دراصل ملک کے سارے صوبوں اور لوگوں کو جوڑے رکھنے کا کام ١٩٧٠ سے بخوبی انجام دے رہی ہے. جب ملک بھر میں لوگ مذهب، ذات، بولی ، معاشی معیار وغیرہ کی بنیاد پر بانٹے جا رہے ہیں، یہ جے ا ین یو ہی ہے جہاں آپکو کشمیر کی رہنے والی ایک پی ایچ ڈی سٹوڈنٹ کی روم میٹ کیرالہ سے آیی ہوئی ایک بی اے کی طالبہ ملیگی. یہ ملک کے ان کچھ خاص کیمپس میں سے ایک ہے، جہاں ڈھابوں پر بیٹھے پنجاب اور اروناچل پردیش کے دو طلبہ مہاراشٹر کے کسانوں کی حالت زار پر بات کرتے ہیں. یہ ایک ایسا کیمپس ہے جہاں کی طلباء فرانسسی انقلاب سے اپنے سپنوں کی دنیا بنانا چاہتے ہے، نہ کہ ہٹلر کے جرمنی کی طرز پر. کلاس روم ہو یا کیمپس کا کوئی اور حصّہ، تعلیم کا سلسلہ یہاں ہمیشہ جاری رہتا ہے 

KREMLIN-jnu

Courtesy: The Hindu

جب ١٩٨٤ میں پوری دہلی سکھوں کے خلاف ہو رہے فرقہ وارانہ فسادات کی لپیٹ میں تھا، یہ جے ا ین یو کے ہی اساتزہ اور سٹوڈنٹس تھے جنہوں نے بلا جھجھک اپنی یونیورسٹی کو ایک رفیوجی کیمپ میں تبدیل کر دیا تھا. آج بھی جب کہیں کسی مظلوم پر کوئی مصیبت آتی ہے، جے ا ین یو کے طلباء اپنے دل کے دروازے کھول دیتے ہیں. انگریزی کے مشہور ناول نگار کرن نگرکر نے ‘خدا کا ننھا سپاہی’ (گوڈس لٹل سولجر) میں ایک بہت ہی خوبصورت بات لکھی ہے کہ پیار وہ نخلستان ہے جہاں دو الگ الگ بھاشا بولنے والے لوگ ایک نیی بھاشا سیکھتے ہے، اور پھر آپس میں بنا کسی بھی بھاشا کے استمعال کیے بات کر لیتے ہے. جے ا ین یو کے طلباء یہ پیار کی زبان بہت پہلے ہی سیکھ چکے ہے. مرکزی سرکار، جو خود فرقہ وارانہ سیاست کی پیروی کرتی رہی ہے، اس کے لئے یہ بات ہضم کرنا مشکل ہے کی ایک یونیورسٹی اتنی نیرنگی  کے باوجود ایک ایکتا قائم رکھے ہوئے ہے

 یہ بھی ایک مغالطہ ہی ہے کہ جے ا ین یو صرف ایک خاص سیاسی سوچ یعنی مارکسزم کو ماننےوالا کیمپس ہے . سچائی دراصل یہ ہے کی اگر دنیا یا اس ملک میں کوئی بھی متبادل خیال موجود ہے تو اسے کہنے والی آواز آپکو جے ا ین یو میں ضرور ملیگی. جے ا ین یو میں مباحثہ اوربحس وتمحیص کا ایک اتنا مضبوط سلسلہ ملتا ہے کہ طالب علم بھی اپنے اساتزہ سے سوال پوچھتے نہیں کتراتے. کیایہنہیں ہے ایک زندہ سماج کی پہچان، جسے آج کے شدید سنسر شپ کے دور میں بھی ایک کیمپس جی جان سے زندہ رکھے ہوئے ہے. یہاں آج بھی ‘لڑو پڑھائی کرنے کو، پڑھو سماج بدلنے کو’ کے نعرے فضاؤں میں گونج رہے ہے. جے ا ین یو میں تعلیم حاصل کر رہے طلباء کے لئے پڑھائی نوکری پانے کا ایک ذریع نہیں، بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ ہے. یہاں یہ بتانا بھی بیحد ضروری ہے کی جو لوگ آج جے ا ین یو میں موجود کم فیس کو ٹیکس بھرنے والوں کے پیسوں کی بربادی بول رہے ہیں، کیا وہ نہیں جانتے ہیں کہ NAAC کے ذریع جے ا ین یو کو٤ پوانٹ میں سے ٣.٩ کی ریٹنگ دی گی ہے جو کی اس ملک میں آج تک کسی بھی یونیورسٹی کو دی جانے والی سب سے اونچی ریٹنگ ہے. ان باتوں کو اگر دھیان میں رکھا جائے تو آپکو حیرت نہیں ہوگی کے جے ا ین یو سے پڑھے ہوئے انگنت لوگ سرکاری محکموں میں اعلیٰ افسران ہیں، ملک اور بیرون ممالک کی سیاست میں اہم قایدین ہیں. جے ا ین یو سے پڑھائی کرنے کے بعد نا جانے کتنے ہی لوگ دیش ودیش میں درسوتدریس سے جڑے ہوئے ہیں. کیا ایک تعلیمی ادارہ جو بقول کچھ لوگوں کے ملک مخالف ہے، اس طرح دنیا میں اپنا اور اپنے ملک کا نام اس طرح روشن کر سکتا ہے؟

اسی سلسلے میں یہ بات بھی غور طلب ہے کی تعلیمی اداروں سے چھیڑ چھاڑ کوئی نیی بات نہیں ہے. پچھلی سرکاروں نے بھی نیی نسل کو سینچنے والی ان یونیورسیٹیوں پر اپنا حکم چلانے کی خوب کوشش کی، مگر تعلیمی اداروں کی آزادی پر یہ حملہ مئی ٢٠١٤کے بعد اور تیز ہو گیا ہے. اس قہر کی زد میں نا صرف جے ا ین یو بلکی ہندوستان کے اور بھی تعلیمی ادارے ہیں. کچھ جگہوں پر محض اپنے لوگوں کو منتخب کرکے سرکار کا کام چل گیا، مگرفلم اور ٹیلی ویژن انسٹیٹیوٹ ،حیدرآباد مرکزی یونیورسٹی اور جے ا ین یو پر اپنا قبضہ جمانے کے لئے سرکار کو پولیسیا طاقت کا بھی سہارا لینا پڑ رہا ہے . حیدرآباد میں روہت وملا کی خودکشی اسی سرکاری ظلم کا ایک ڈراونا سچ ہے. حیدرآباد کے بعد جے ا ین یو کے طلباء پر یہ کراک ڈاون ایک سرکاری دھمکی ہے نوجوانوں کو سوچنے اور سوال کرنے سے روکنے کے لئے . مگر ایک کیمپس جہاں آزاد سوچ محض ایک کتابی آئیڈیا نہیں بلکہ کندھے سے کندھا ملاکر لڑتے ہوئے ٹیچر اور طالب علم کی شکل لیتا ہے، وہاں کے باشندوں کو ڈرا نہ کوئی آسان کام نہیں ہے . بس جے ا ین یو کا ہر طالب علم پنجابی شاعر پاش کے لفظوں میں سرکاری ظلم کے خلاف ایک آواز میں کہتا ہے کہ

،ہم لڑینگے ساتھی اداس موسم کے لئے’

،ہم لڑگے ساتھی غلام اچّھاوں کے لئے 

.’ہم لڑگے جب تک دنیا میں لڑنے کی ضرورت باقی ہے

Advertisements

एक उत्तर दें

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / बदले )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / बदले )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / बदले )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / बदले )

Connecting to %s